کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ نمازی کے اور قبلہ کے درمیان اس کی محرم عورت کا موجود ہونا جائز ہے
حدیث نمبر: 2341
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَضْطَجِعُ عَلَيْهِ هُوَ وَأَهْلُهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور میں بچھونے پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی کی سمت میں لیٹی ہوئی تھی یہ وہ بچھونا تھا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ آرام کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2341
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (705): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله ثقات، إلا أن عمر بن علي- وهو ابن عطاء بن مقدًم- عيب عليه كثرة تدليسه، وقد رواه بالعنعنة، وسيرد عند المصنف بإسناد أصح من هذا بعد حديثين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2335»