کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ خمیصہ کو لوگوں میں سے ابو جہم کو بھیجا
حدیث نمبر: 2338
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَهْدَى أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ ، فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلاةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " رُدِّي هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَى أَبِي جَهْمٍ ، فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلاةِ فَكَادَتْ تَفْتِنُنِي " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر پہن کر نماز ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ چادر ابوجہم کے پاس واپس لے جاؤ جب نماز کے دوران میری نظر اس کے نقش و نگار پر پڑی تو مجھے اپنی توجہ منتشر ہونے کا اندیشہ ہوا۔