کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ایسی کپڑوں میں نماز پڑھے جو اسے اپنی نماز سے مشغول نہ کریں
حدیث نمبر: 2337
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ذَاتُ أَعْلامٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ قَالَ : " اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، وَائْتُونِي ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي فِي صَلاتِي " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے آپ نے ایک ایسی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے اس کے ان نقش و نگار کا منظر گویا، آج بھی میری نگاہ میں ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا: یہ چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور اس کی انبجانی چادر میرے پاس لے آؤ چونکہ اس چادر نے میری نماز میں (خلل ڈالنے کی) کوشش کی تھی۔