کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "زمین میرے لیے پاک اور مسجد بنائی گئی" سے مراد زمین کا بعض حصہ ہے، نہ کہ سب
حدیث نمبر: 2314
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَمَعَاطِنَ الإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ " .
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب تمہیں (نماز ادا کرنے کے لیے) صرف بکریوں کا باڑا یا اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ملے، تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو لیکن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2314
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3/ 103 / 1698). تنبيه!! رقم (1698) = (1700) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، هشام بن حسان، ومحمد: هو ابن سيرين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2310»