کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ساری زمین پاک ہے اور اس پر آدمی کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2313
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ : أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھے دیگر انبیاء پر چھ حوالے سے فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے جامع تعلیم کلمات عطا کیے گئے ہیں رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ قرار دیا گیا ہے اور مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور میرے ذریعے انبیاء کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا ہے ۔“