کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ نمازیں انصار کے ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانا کھانے کے بعد پڑھی گئیں
حدیث نمبر: 2309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے گھر میں ملنے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے ہاں کھانا کھایا جب آپ نے وہاں سے واپس آنے کا ارادہ کیا، تو آپ کے حکم کے تحت گھر کے ایک حصے میں آپ کے لیے چٹائی بچھائی گئی۔ آپ نے اس پر نماز ادا کی اور ان (گھر والوں کے لیے) دعا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2309
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (6080). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما غير سوار العنبري وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2305»