کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ نمازی قالین پر نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2308
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گھل مل جایا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے یہ فرمایا کرتے تھے: اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے۔ ہم نے اپنی چٹائی آپ کے لیے بچھا دی تو آپ نے اس پر نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2308
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (201): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو التياح: هو يزيد بن حميد الضّبعي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2304»