کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں کیا کرے اگر اس کے پاس ایک غیر کشادہ کپڑا ہو
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ أَتَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ اشْتَمَلْتُ بِهِ ، وَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " مَا السُّرَى يَا جَابِرُ ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، مَا هَذَا الاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ ؟ " فَقُلْتُ : كَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَيِّقًا ، فَقَالَ : " إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ " .
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ ایک رات میں کسی معاملے کے بارے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا میرے جسم پر ایک کپڑا تھا جسے میں نے اشتمال کے طور پر لپیٹا ہوا تھا۔ میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے آپ کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! یہ تم نے اشتمال کے طور پر کس طرح کپڑا پہنا ہوا ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کی: یہ ایک تنگ کپڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز ادا کرنے لگو اور تمہارے جسم پر ایک کپڑا ہو، تو اگر تو وہ کشادہ ہو، تو تم اسے التحاف کے طور پر پہن لو اگر وہ تنگ ہو، تو تم اس کا تہبند باندھ لو۔