کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس وجہ کی دلیل ہے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی
حدیث نمبر: 2298
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، وَأَيُّوبُ ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، فَقَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ " . فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَوَسِّعُوا ، رَجُلٌ جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، صَلَّى فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ " ، قَالَ هِشَامٌ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : " وَتُبَّانٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے دریافت کیا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں؟ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کا زمانہ آیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: جباللہ تعالیٰ کشادگی عطا کرے تو تم لوگ کشادگی کو اختیار کرو۔ آدمی اپنے کپڑے کو جمع کرے (یعنی دو مختلف چیزوں کو پہن کر نماز ادا کرے) وہ تہبند اور چادر میں، یا تہبند اور قمیض میں، یا تہبند اور قباء میں، یا شلوار در چادر میں، یا شلوار اور قمیض میں، یا شلوار اور قباء میں نماز ادا کرے۔ ہشام نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے پاجامے کا ذکر بھی کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2298
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» (5746): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح، أيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وهشام: هو ابن حسان القردوسي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2295»