کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائے
حدیث نمبر: 2284
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلاتِهِمْ " ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ : " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز کے دوران اپنی نگاہیں آسمان کی طرف بلند کر لیتے ہیں ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید تاکید کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی: ” لوگ یا تو اس سے باز آ جائیں، یا ان کی نگاہ کو اچک لیا جائے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2284
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (847): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، سعيد - وهو ابن أبي عروبة - قد سمع منه يزيد بن زريع قبل اختلاطه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2281»