کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنے بالوں کو باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2280
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ ، فَقَامَ مِنْ وَرَائِهِ ، فَجَعَلَ يَحُلُّهُ ، وَأَقَرَّ لَهُ الآخَرُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَرَأْسِي ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے عبداللہ بن حارث کو دیکھا، انہوں نے اپنے پیچھے اپنے بال باندھے ہوئے تھے، تو وہ ان کے پیچھے آ کر کھڑے ہوئے اور انہیں کھولنے لگے دوسرے صاحب انہیں پہلی حالت پر برقرار رکھنے لگے جب انہوں نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی االلہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: آپ کا میرے سر کے ساتھ کیا واسطہ ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” اس شخص کی مثال یوں ہے جیسے وہ اس حالت میں نماز ادا کر رہا ہو، اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2280
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (654): م*. * [م] قال الشيخ: وأورده الهيثمي في «موارد الظمآن» (475)؛ فَخَاَلفَ شرطه، فلعله عن سهو. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات، رجال الشيخين غير حرملة فإنه من رجال مسلم، عمرو بن الحارث: هو المصري، وقد سقطت جملة «أن بكيراً حدثه» من الأصل و «التقاسيم» 3/لوحة 92، واستدركت من موارد الحديث.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2277»