کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ نمازی شدید گرمی میں سجدہ کرنے کے لیے کنکری کو ہاتھ سے ٹھنڈا کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2276
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاَّسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَال : َ " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ ، فَيَعْمِدُ أَحَدُنَا إِلَى قَبْضَةٍ مِنَ الْحَصَى ، فَيَجْعَلُهَا فِي كَفِّهُ هَذِهِ ، ثُمَّ فِي كَفِّهِ هَذِهِ ، فَإِذَا بَرَدَتْ سَجَدَ عَلَيْهَا " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ شدید گرمی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے، تو ہم میں سے کوئی ایک شخص مٹھی میں کنکریاں رکھ لیتا تھا۔ وہ اپنے اس ہاتھ میں انہیں رکھتا تھا، پھر اس ہاتھ میں رکھتا تھا جب وہ ٹھنڈی ہو جاتی تھیں، تو ان پر سجدہ کرتا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2276
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (428). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو -وهو ابن علقمة الليثي-.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2273»
حدیث نمبر: 2277
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى عَنْ ثَلاثِ خِصَالٍ فِي الصَّلاةِ : عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ ، وَعَنِ افْتِرَاشِ السَّبُعِ ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرَ " .
سیدنا عبدالرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” آپ نے نماز کے دوران تین کام کرنے سے منع کیا ہے۔ کوے کی ٹھونگا مارنے سے درندے کی طرح پاؤں بچھانے سے اور یہ، آدمی اپنے بیٹھنے کے لیے کسی جگہ کو یوں مقرر کر لے جس طرح اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو مقرر کرتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2277
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره - «المشكاة» (902)، «الصحيحة» (1168)، «صحيح أبي داود» (808)، «التعليق الرغيب» (1/ 181)، «التعليق على ابن خزيمة» (1/ 331). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، تميم بن محمود لين الحديث، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2274»