کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ زہری نے یہ خبر سعید بن مسیب سے سنی، نہ کہ ابو الاحوص سے
حدیث نمبر: 2274
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا الأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ ، حَدَّثَهُ ، فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ، فَلا يُحَرِّكِ الْحَصَى ، أَوْ لا يَمَسَّ الْحَصَى " .
ابواحوص نے سعید بن مسیب کی محفل میں یہ بات بیان کی۔ اس وقت سعید بن مسیب بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابواحوص نے بتایا: انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو رحمت اس کے مد مقابل ہوتی ہے۔ اس لیے (نماز ادا کرتے ہوئے) وہ کنکریوں کو حرکت نہ دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) کنکریوں کو چھوئے نہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2274
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط هو مكرر ما قبله.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2271»