کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر نمازی کو اچانک تھوک آ جائے اور وہ اسے اپنے بائیں پاؤں کے نیچے نہ دفن کر سکے تو اسے اپنے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے سے رگڑ کر صاف کرنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 2270
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ يُمْسِكُهَا بِيَدِهِ ، فَدَخَلَ يَوْمًا الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا وَاحِدَةٌ ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ الرَّجُلُ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ بِهِ رَبَّهُ ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا " ، وَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ ، وَرَدَّ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ میں چھڑی رکھنا پسند تھا ایک دن آپ مسجد میں داخل ہوئے۔ ایک چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے مسجد کے قبلہ کی سمت (والی دیوار) پر بلغم لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے کھرچ کر اچھی طرح صاف کیا، پھر آپ غضب کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا، کوئی شخص اس کے سامنے آئے، اور اس کے چہرے کی طرف منہ کر کے تھوک دے جب آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کے مدمقابل ہوتا ہے اور فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے اس لیے اسے اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیئے بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیئے اور اگر تھوک تیزی سے آ جائے، تو اسے اس طرح کرنا چاہیئے یعنی اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2270
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (499). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، ابن عجلان: هو محمد، صدوق أخرجه له مسلم متابعة والبخاري تعليقاً، وباقي رجال السند ثقات على شرطهما، عياض بن عبد الله: هو ابن سعد بن أبي سرح القرشي المكي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2267»
حدیث نمبر: 2271
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ هَذِهِ الْعَرَاجِينُ ، وَيُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا قَضِيبٌ ، فَحَكَّهَا بِهِ ، يُرِيدُ : بَزْقَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، وَنَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : " لِيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ ، فَلْيَجْعَلْهَا فِي ثَوْبِهِ ، وَلْيَقُلْ بِهَا هَكَذَا " ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ يَدْلُكُ طَرَفَ كُمِّهِ بِإِصْبَعِهِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی رکھنا پسند تھا۔ آپ اسے اپنے دست اقدس میں رکھتے تھے۔ ایک دن آپ مسجد میں داخل ہوئے، تو آپ کے دست مبارک میں چھڑی تھی۔ آپ نے اس کے ذریعے اسے کھرچ دیا۔ راوی کی مراد یہ ہے، مسجد میں قبلہ کی سمت میں لگے ہوئے بلغم کو کھرچ دیا اور آپ نے اس بات سے منع کیا، آدمی اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف تھوکے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اسے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیئے اور اگر تھوک تیزی سے آ رہا ہو، تو اسے اپنے کپڑے میں پھینک دینا چاہیئے اور پھر اس طرح کر دینا چاہئے۔ سفیان نے اپنی انگلیوں کے ذریعے آستین کے کنارے کو مل کر اشارہ کر کے بتایا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2271
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2268»