کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر آدمی کو اپنی نماز میں سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 2269
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ ، فَلا يَبْصُقْ أَمَامَهُ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي مُصَلاهُ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ ، فَيَدْفِنَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو، تو وہ اپنے سامنے کی سمت میں نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز ادا کر رہا ہوتا ہے، تو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے اور وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے اسے اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے دفن کر دینا چاہیئے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2269
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3973): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2266»