کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ بلال نے ابو بکر کو اس نماز کے لیے آگے کیا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، نہ کہ اپنی مرضی سے
حدیث نمبر: 2261
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، وَقَدْ صَلَّى الظُّهْرَ ، فَقَالَ لِبِلالٍ : " إِنْ حَضَرَتِ صَلاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِ ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ ، أَذَّنَ بِلالٌ وَأَقَامَ ، وَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ تَقَدَّمْ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ الصُّفُوفَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ صَفَّحُوا ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِ امْضِ " ، فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِ امْضِ " ، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ صَلاتَهُمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لا تَكُونَ مَضَيْتَ ؟ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَمْ يَكُنْ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ " .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو عمرو بن عوف کے درمیان لڑائی ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں نہ آ پاؤں، تو ابوبکر سے کہنا لوگوں کو نماز پڑھا دے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی اور بولے: اے ابوبکر آپ آگے بڑھئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے تشریف لے آئے جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تھے، تو ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے جب انہوں نے دیکھا، مسلسل تالیاں بج رہی ہیں، تو انہوں نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نظر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا، تم نماز جاری رکھو لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پیچھے آ گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی تو آپ آگے بڑھے۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر کیا وجہ ہے، جب میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا تھا تو تم نے نماز کو جاری کیوں نہیں رکھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے، وہ اللہ کے رسول کی امامت کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: جب تمہیں نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) ضرورت پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیئے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیئے۔