کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی اگر اس وقت اسے سلام کیا جائے تو سلام کے جواب میں کیا کرے
حدیث نمبر: 2259
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : " مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً " ، وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ : " بِإِصْبَعِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا: راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ” آپ نے انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔ “