کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اگر اسے سلام کیا جائے تو وہ اپنی نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دے، نہ کہ زبان سے بول کر
حدیث نمبر: 2258
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ ، فَدَخَلَ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ فَقَالَ : " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے (راوی کہتے ہیں) یعنی مسجد قبا میں تشریف لائے، تو کچھ انصار مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ یہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز کے دوران سلام کیا گیا تو پھر آپ نے کیا کیا تھا تو سیدنا صہیب نے بتایا: آپ نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اشارے (کے ذریعے جواب دیا تھا)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2258
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (318)، «صحيح أبي داود» (860). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، إبراهيم بن بشار الرمادي حافظ مستقيم من أهل الصدق، لكن تقع له أوهام، وقد توبع عليه، ومن فوقه من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2255»