کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - ان خبروں کا ذکر جو واضح کرتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں شرکت کی، نہ کہ اسے دوسروں سے نقل کیا جیسا کہ حدیث کی صنعت سے ناواقف نے وہم کیا کیونکہ اس نے خبروں کے متون پر غور نہیں کیا اور نہ ہی صحیح آثار میں تفہیم حاصل کی
حدیث نمبر: 2251
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2251
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2246). تنبيه!! رقم (2246) = (2249) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو في «الموطأ» برواية الليثي 1/ 94، وبرقم (137) برواية محمد بن الحسن، وفيهما: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر، وليس فيهما: صلى لنا، وهي في المصادر المخرج منها عن مالك سوى عبد الرزاق وإحدى روايتي البيهقي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2248»
حدیث نمبر: 2252
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2252
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم، حرملة من رجال مسلم، ومن فوقه على شرطهما، ويونس: هو ابن يزيد الأيلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2249»
حدیث نمبر: 2253
وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2253
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات، رجال الشيخين غير محمد بن عبد الأعلى: وهو الصنعاني فمن رجال مسلم، ابن عون: اسمه عبد الله بن عون بن أرطبان.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2250»
حدیث نمبر: 2254
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2254
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، يعقوب بن إبراهيم: هو الدورقي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2251»
حدیث نمبر: 2255
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2255
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2252»
حدیث نمبر: 2256
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتْيِ الْعَشِيِّ ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : سَمَّاهَا لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَنَسِيتُ أَنَا ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَاتَّكَأَ عَلَى خَشَبَةٍ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ ، قَالَ : وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، قَالَ النَّضْرُ : يَعْنِي أَوَائِلَ النَّاسِ ، فَقَالُوا : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ ؟ ! وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدِهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ ، وَلَمْ أَنَسَ " ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، " فَصَلَّى مَا كَانَ تَرَكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَهُ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ " ، قَالَ : فَرُبَّمَا سَأَلُوا مُحَمَّدًا : ثُمَّ سَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ : نُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ : " ثُمَّ سَلَّمَ " ، لَفْظُ الْخَبَرِ لِلنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ ابن سیرین نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے (اس نماز کا) نام لیا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیا۔ آپ نے غضب کے عالم میں اس لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل گئے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے۔ نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے لیکن انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے۔ انہیں ذوالیدین کہا: جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ تو نماز مختصر ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے دریافت کیا: کیا اسی طرح ہے، جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی جو آپ نے چھوڑ دی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں جتنا یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہی۔ پھر آپ نے تکبیر کہی اور اسی کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں: (ہمارے استاد سے) بعض لوگ یہ کہتے تھے (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) پھر انہوں نے سلام پھیر دیا، تو وہ یہ فرماتے تھے۔ مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے، انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں ” پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ “ روایت کے یہ الفاظ نضر بن شمیل کے ابن عون کے حوالے سے نقل کردہ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2256
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه الحنظلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2253»