کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان -
حدیث نمبر: 2240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيِّ ، عَنِ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الأَسَدِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلاةِ ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " فَهَلا أَذْكَرْتُمُونِيهَا " .
سیدنا مسور بن یزید اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ نماز کے دوران تلاوت کر رہے تھے۔ آپ نے درمیان میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیا جس کی آپ نے تلاوت نہیں کی۔ (نماز کے بعد) ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ نے فلاں فلاں آیت کو چھوڑ دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اسے مجھے یاد کیوں نہیں کروایا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2240
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (842). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، يحيى بن كثير الكاهلي ضعفه النسائي، وقال الحافظ في «التقريب»: لين الحديث، وباقي رجاله ثقات، ويتقوى بحديث ابن عمر الآتي وبغيره.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2237»