کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر امام نماز سے فارغ ہو اور اس کے پیچھے مرد اور عورتیں ہوں تو اسے اپنی جگہ پر ٹھہرنا مستحب ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے اپنے گھروں کو چلی جائیں
حدیث نمبر: 2233
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا : " أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الصَّلاةِ ، قُمْنَ ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ صَلَّى مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ الرِّجَالُ " .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خواتین سلام پھیرنے کے ساتھ ہی اٹھ جاتی تھیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والے مرد حضرات، جب تک اللہ کو منظور ہوتا تھا، بیٹھے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تھے، تو مرد حضرات بھی اٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (955): خ نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2230»