کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اگر لوگوں کا امام ان سے غائب ہو تو وہ ایک شخص کو آگے کریں جو انہیں نماز پڑھائے
حدیث نمبر: 2225
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَعُرْوَةَ ابني المغيرة بن شعبة ، عَنْ أَبِيهِمَا الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ جُبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ صُوفٌ رُومِيَّةٌ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي فُرُوجٍ كَانَ فِي خَصْرِهَا ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَوَجَدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ ، فَأَدْرَكْنَاهُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً ، فَصَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّانِيَةَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَمَّ صَلاتَهُ ، فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، قَالَ : " قَدْ أَصَبْتُمْ ، وَأَحْسَنْتُمْ إِذَا احْتَبَسَ إِمَامُكُمْ ، وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَقَدِّمُوا رَجُلا يَؤُمُّكُمْ " . قَصَّرَ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ فِي سَنَدِ هَذَا الْخَبَرِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبَّادَ بْنَ زِيَادٍ فِيهِ ، لأَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَسَمِعَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ . قَالَهُ : أَبُو حَاتِمٍ .
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے، تو میں نے برتن میں سے آپ پر پانی انڈیلا۔ آپ نے اپنے چہرے کو دھویا پھر آپ اپنی کلائیاں باہر نکالنے لگے، تو جبے کی آستین تنگ تھی۔ وہ اون کا بنا ہوا رومی جبہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس جگہ سے باہر نکالا جو کھلی تھی اور آپ کے پہلو کے پاس تھی۔ آپ نے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر آپ تشریف لائے میں آپ کے ساتھ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صف میں کھڑے ہو گئے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی امامت کر رہے تھے۔ ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا، وہ ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں دوسری رکعت ادا کی جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنی نماز مکمل کی تو لوگ اس بات سے گھبرا گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے۔ تم نے اچھا کیا ہے، جب تمہارا امام نہ آ سکے اور نماز کا وقت ہو جائے، تو تم کسی شخص کو آگے کر دو جو تمہیں نماز پڑھائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جعفر بن برقان نے اس روایت کی سند کو مختصر نقل کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سند میں عباس بن زیاد کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زہری نے یہ روایت عباس بن زیاد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت حمزہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ یہ بہت امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔