کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے استعمال کا ذکر جو ظاہری طور پر اس کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 2220
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ بِلالا : " أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنَ " . قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْفِعْلُ يُنْهَى عَنْهُ بَيْنَ السَّوَارِي جَمَاعَةً ، وَأَمَّا اسْتِعْمَالُ الْمَرْءِ مِثْلَهُ مُنْفَرِدًا فَجَائِزٌ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے، تو آپ نے کہاں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے بتایا: سامنے والے دو ستونوں کے درمیان۔ راوی کہتے ہیں: مجھے یہ خیال نہیں رہا، میں ان سے یہ سوال کرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں؟ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ فعل یہ ہے کہ ستونوں کے درمیان با جماعت نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے جہاں تک آدمی کے انفرادی طور پر ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے کا تعلق ہے۔ تو یہ جائز ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2220
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1764 و 1765)، «صفة الصلاة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير إبراهيم بن بشار، وهو الرمادي، وهو مع كونه حافظا له أوهام، لكنه توبع.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2217»