کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ جو عورت عشاء کی آخری نماز جماعت سے شرکت کرے وہ اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک مرد اپنی جگہ نہ لیں، اگر ان کے کپڑوں میں کمی ہو
حدیث نمبر: 2216
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّ النِّسَاءُ يُؤْمَرْنَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ أَنْ لا يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ حَتَّى يَأْخُذَ الرِّجَالُ مَقَاعِدَهُمْ مِنَ الأَرْضِ ، مِنْ ضِيقِ الثِّيَابِ " . قَالَ بِشْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي حَازِمٍ .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خواتین کو نماز کے بارے میں یہ حکم دیا جاتا تھا، وہ اپنے سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک مرد اپنی جگہ پر بیٹھ نہیں جاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے ان مردوں کے کپڑے تنگ ہوتے تھے۔ “ بشر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابوحازم سے بھی سنی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2216
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (641): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2213»