کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ نماز، جس میں ام انس اور ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی، ایک دوسری نماز تھی
حدیث نمبر: 2207
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِسَاطٍ ، فَأَقَامَنِي ، عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ ، أَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ خِلافُ الصَّلاةِ الَّتِي حَكَاهَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، لأَنَّ فِي تِلْكَ الصَّلاةِ قَامَ أَنَسٌ وَالْيَتِيمُ مَعَهُ خَلْفَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْعَجُوزُ وَحْدَهَا وَرَاءَهُمْ ، وَكَانَتْ صَلاتُهُمْ تِلْكَ عَلَى حَصِيرٍ ، وَهَذِهِ الصَّلاةُ قَامَ أَنَسٌ ، عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَهُمَا ، وَكَانَتْ صَلاتُهُمْ عَلَى بِسَاطٍ ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُمَا صَلاتَانِ لا صَلاةً وَاحِدَةً .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چٹائی پر نماز پڑھائی تھی۔ آپ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے۔ کہ یہ اس نماز سے مختلف تھی۔ جس کا تذکرہ اسحاق بن ابوطلحہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کیا ہے کیونکہ اس نماز میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور یتیم لڑکا سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ جبکہ بوڑھی خاتون اکیلی ان حضرات کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی۔ اور ان لوگوں نے چٹائی پر نماز ادا کی تھی جبکہ یہ نماز جس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے تھے۔ جبکہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی تھیں یہ نماز بچھونے پر ادا کی گئی تھی۔ تو یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دو مختلف موقعوں پر ادا کی جانے والی نمازیں تھیں یہ ایک ہی نماز کا واقعہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2208
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمُ النِّسَاءُ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب خواتین تم سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو تم انہیں اجازت دے دو۔ “