کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس نماز میں بوڑھی عورت تنہا نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ ایک اور عورت تھی
حدیث نمبر: 2206
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ : " فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ ، وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ جَعَلَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ خَبَرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ خَبَرًا مُخْتَصَرًا ، وَخَبَرَ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ هَذَا مُتَقَصًّى لَهُ ، وَزَعَمَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَ مَعَهَا مِثْلُهَا ، خَالَةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا كَذَلِكَ ، لأَنَّهُمَا صَلاتَانِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ان کی خالہ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور خالہ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے بعض آئمہ نے اسحاق بن ابوطلحہ کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کو مختصر روایت قرار دیا ہے اور موسیٰ بن انس کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اس موقع پر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ بھی موجود تھیں۔ لیکن ہمارے نزدیک ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ دو مختلف نمازیں ہیں۔ جو مختلف موقعوں پر ادا کی گئیں یہ ایک ہی نماز کا واقعہ نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2206
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (622): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2203»