کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شخص کی تأویل کو رد کرتا ہے جس نے اس خبر کو اس کی سمت سے ہٹایا اور دعویٰ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نمازی کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم اس لیے دیا کیونکہ وہ اس کے بارے میں کوئی ایسی بات جانتے تھے جو ہم نہیں جانتے
حدیث نمبر: 2202
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ ، إِذَا رَجُلٌ فَرْدٌ فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَى الرَّجُلُ صَلاتَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقْبِلْ صَلاتَكَ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِفَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ " .
عبدالرحمن بن علی بن شیبان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو وفد میں شامل تھے۔ وہ فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ایک شخص نے تنہا کھڑے ہو کر نماز ادا کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اس شخص نے اپنی نماز مکمل کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم نئے سرے سے نماز پڑھو کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے والے شخص کی نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2202
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 328 و 329). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات كما قال البوصيري في «مصباح الزجاجة» ورقة 19.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2199»