کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف عنبسہ نے حسن سے روایت کی
حدیث نمبر: 2195
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ ، قَالَ : فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلا تَعُدْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ فِي فِعْلٍ مَعْلُومٍ ، وَيَكُونُ مُرْتَكِبُ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ مَأْثُومًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ عَالِمًا بِنَهْيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، وَالْفِعْلُ جَائِزٌ عَلَى مَا فَعَلَهُ ، كَنَهْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، أَوْ يَسْتَامَ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، فَإِنْ خَطَبَ امْرُؤٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ بَعْدَ عِلْمِهِ بِالنَّهْيِ عَنْهُ كَانَ مَأْثُومًا ، وَالنِّكَاحُ صَحِيحٌ ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرَةَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا ، وَلا تَعُدْ " ، فَإِنْ عَادَ رَجُلٌ فِي هَذَا الْفِعْلِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ ، وَكَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ النَّهْيِ كَانَ مَأْثُومًا فِي ارْتِكَابِهِ الْمَنْهِيَّ ، وَصَلاتُهُ جَائِزَةٌ ، وَلأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاحَ هَذَا الْقَدْرَ لأَبِي بَكْرَةَ مُسْتثْنًى مِنْ جُمْلَةِ مَا نَهَاهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ وَابِصَةَ ، كَالْمُزَابَنَةِ وَالْعَرِيَّةِ وَلَوْ لَمْ تَجُزِ الصَّلاةُ بِهَذَا الْوَصْفِ لأَبِي بَكْرَةَ لأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلاةِ . وَقَوْلُهُ : " وَلا تَعُدْ " ، أَرَادَ بِهِ : لا تَعُدُ فِي إِبْطَاءِ الْمَجِيءِ إِلَى الصَّلاةِ ، لا أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَنْ لا تَعُودَ بَعْدَ تَكْبِيرِكَ فِي اللُّحُوقِ بِالصَّفِّ .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ مسجد میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع کی حالت میں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں صف سے پیچھے ہی رکوع میں چلا گیا (اور پھر صف میں آ کر شامل ہوا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کے بارے میں نے کتاب اصول سنن میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی متعین فعل کے حوالے سے کسی چیز سے منع کرتے ہیں۔ اور اس ممنوعہ فعل کا مرتکب شخص اس کے سرانجام دینے پر گناہ گار شمار ہوتا ہے۔ جبکہ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے واقف ہو۔ لیکن آدمی کا کیا ہوا وہ فعل جائز ہوتا ہے۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیج دے۔ یا اپنے بھائی کی بولی: پر بولی: لگا دے۔ تو جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حوالے سے ممانعت کا علم ہونے کے باوجود اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیج دیتا ہے تو وہ گناہگار ہوتا ہے۔ لیکن (اس پیغام کے نتیجے میں کیا جانے والا) نکاح درست شمار ہو گا۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا۔ ”اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے تو تم دوبارہ ایسا نہ کرنا “ تو اگر کوئی شخص دوبارہ اس ممنوعہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ اس کی ممانعت سے واقف بھی ہو تو وہ اس ممنوعہ فعل کے ارتکاب پر گناہ گار شمار ہو گا۔ لیکن اس کی نماز جائز ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار کو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لیے مباح قرار دیا تھا کہ یہ اس عمومی حکم سے مستثنی ہو جائے گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا تھا۔ جس کا ذکر سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں ہے۔ اس کی مثال مزابنہ اور عریہ کی مانند ہو جائے گی۔ اگر سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لیے اس صفت کے ہمراہ نماز ادا کرنا جائز نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نماز دہرانے کا حکم دیتے تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ” تم دوبارہ ایسا نہ کرنا “ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نماز کے لیے آتے ہوئے تم دوبارہ تیزی نہ دکھانا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہنا چاہتے ہوں کہ تم تکبیر کہنے کے بعد صف میں آ کر شامل نہ ہونا۔