کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مأموم اپنی نماز میں جوتے کو اپنی دائیں یا بائیں جانب رکھے
حدیث نمبر: 2188
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلا يَضَعْ نَعْلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَلا عَنْ يَسَارِهِ ، فَيَكُونُ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ إِلا أَنْ يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو وہ اپنے جوتے کو اپنے دائیں طرف یا اپنے بائیں طرف نہ رکھے ورنہ وہ کسی دوسرے شخص کے دائیں طرف ہو جائے گا البتہ اگر اس کے بائیں طرف کوئی شخص موجود نہ ہو، تو پھر (وہ اس طرف رکھ سکتا ہے) یا پھر اسے (جوتوں کو) اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لینا چاہئے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2188
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (661 و 662) «المشكاة» (767). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن في الشواهد، أبو عامر الخزاز -واسمه صالح بن رستم-وإن كان من رجال مسلم فهو كثير الخطأ.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2185»