کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص مسجد میں نماز کے لیے آتا ہے وہ اپنے جوتوں کو دیکھے اور اگر ان میں نجاست ہو تو اسے صاف کرے
حدیث نمبر: 2185
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّى خَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ ، فَخَلَعَ الْقَوْمُ نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : " مَا لَكُمْ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " . قَالُوا : رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا . قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَخْلَعْهُمَا مِنْ بَأْسٍ ، وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فِي نَعْلَيْهِ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِمَا أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز ادا کی تو اپنے جوتے اتار کر اپنے بائیں طرف رکھ لیے۔ حاضرین نے بھی اپنے جوتے اتار لیے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا: تم نے جوتے کیوں اتارے ہیں، تو لوگوں نے عرض کی: ہم نے آپ کو دیکھا، آپ نے جوتے اتار دیے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے کسی خرابی کی وجہ سے انہیں نہیں اتارا بلکہ جبرائیل نے مجھے بتایا تھا، ان پر گندگی لگی ہوئی ہے، جب کوئی شخص مسجد میں آئے، تو وہ اپنے جوتوں کا جائزہ لے اگر اس میں گندگی لگی ہوئی ہو، تو وہ اسے صاف کر لے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2185
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (657). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو نعامة السعدي: اسمه عبد ربه، وقيل: عمرو، وأبو نضرة: اسمه المنذر بن مالك قطعة العبدي البصري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2182»