کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مأموموں میں سے بالغ اور عقلمند افراد امام کے پیچھے کھڑے ہوں
حدیث نمبر: 2180
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، وَلا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ ، كُوفِيٌّ ثِقَةٌ ، وَلَيْسَ هَذَا بِأَبِي مَعْشَرٍ السِّنْدِيِّ ، فَإِنَّهُ مِنْ ضُعَفَاءِ الْبَغْدَادِيِّينَ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم میں سے سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں اس کے بعد ان کے بعد والے مرتبے کے لوگ ہوں پھر اس کے بعد ان کے بعد کے مرتبے کے لوگ ہوں (تم لوگ صرف سیدھی کرنے میں) آپس میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا اور بازاروں کے شور و غوغا سے بچنے کی کوشش کرو۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ابومعشر نامی یہ راوی زیاد بن کلیب ہے، جو کوفہ کا رہنے والا ہے اور ” ثقہ “ ہے۔ یہ ابومعشر سندی نہیں ہے، کیونکہ وہ بغداد سے تعلق رکھنے والا ” ضعیف “ راوی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2180
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (679): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي معشر -واسمه زياد بن كليب- فإنه من رجال مسلم وحده، خالد الحذاء: هو خالد بن مهران، وإبراهيم: هو ابن يزيد النخعي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2177»