کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا استحباب کہ امام مأموموں کو نماز کے لیے کھڑے ہونے پر صفوں کو برابر اور معتدل کرنے کا حکم دے
حدیث نمبر: 2170
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، لَمَّا زَادَ فِي الْمَسْجِدِ غَفَلُوا عَنِ الْعُودِ الَّذِي كَانَ فِي الْقِبْلَةِ ، قَالَ أَنَسٌ : أَتَدْرُونَ لأَيِّ شَيْءٍ جُعِلَ ذَلِكَ الْعُودُ ؟ فَقَالُوا : لا . فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، أَخَذَ الْعُودَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَقَالَ : " اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَاسْتَوُوا " ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَقَالَ : " اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں، توسیع کی تو لوگ اس لکڑی سے غافل ہو گئے جو قبلہ کی سمت میں موجود تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو، اس لکڑی کو کیوں رکھا گیا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اقامت کہے جانے کے بعد اس لکڑی کو اپنے دائیں دست اقدس میں لیتے تھے اور پھر (دائیں طرف) متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے تھے: تم اپنی صفوں کو ٹھیک اور برابر کرو پھر آپ اسے اپنے بائیں دست اقدس میں لے کر (پھر بائیں طرف) متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے تھے: تم اپنی صفوں کو ٹھیک کرو
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2170
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر (2165). تنبيه!! رقم (2165) = (2168) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، وهو مكرر (2168).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2167»