کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ صفوں کو برابر کیا جائے تاکہ چہروں کی مخالفت سے بچا جائے اگر اسے چھوڑ دیا جائے
حدیث نمبر: 2165
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ حَتَّى يَجْعَلَهُ مِثْلَ الْقِدْحِ ، أَوِ الرُّمْحِ ، فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عِبَادَ اللَّهِ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صف کو درست کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسے تیر یا نیزے کی مانند بنا دیتے تھے۔ جب آپ کسی شخص کے سینے کو آگے نکلا ہوا دیکھتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے۔ اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو درست رکھو، اور نہاللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2165
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (669): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل سماك بن حرب، فإنه صدوق، وهو من رجال مسلم، وباقي رجاله رجال الشيخين، محمد: هو ابن جعفر الملقب بغندر.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2162»