کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اور فرشتوں کی استغفار کے ساتھ ناقص صفوں کو جوڑنے والے کی مغفرت ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2163
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ هَذَا هُوَ اللَّيْثِيُّ ، مَوْلًى لَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، مُسْتَقِيمُ الأَمْرِ صَحِيحُ الْكِتَابِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَدَنِيٌّ وَاهٍ ، وَكَانَا فِي زَمَنٍ وَاحِدٍ إِلا أَنَّ اللَّيْثِيَّ أَقْدَمُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: “ بے شکاللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسامہ بن زید نامی راوی لیثی ہے یہ ان کا آزاد کردہ غلام ہے۔ جو اہل مدینہ سے تعلق رکھتا ہے مستقیم الامر ہے۔ اس کی روایات مستند ہیں۔ جبکہ اسامہ بن زید بن اسلم مدینہ منورہ کا رہنے والا ہے لیکن وہ واہی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن لیثی نامی راوی کی عمر زیادہ ہے۔