کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ پہلی صف میں شامل ہونے، جلدی آنے، اور صبح اور عشاء کی آخری نماز کی پابندی کی جائے
حدیث نمبر: 2153
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ ، لاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ ، لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے، اذان دینے اور پہلی صف (میں نماز ادا کرنے) میں کیا اجر و ثواب ہے اور پھر انہیں صرف قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا موقع ملے، تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کر لیں گے اور اگر انہیں نماز کے لیے جلد جانے (کے اجر و ثواب) کا پتہ چل جائے، تو وہ اس کی طرف سبقت لے جائیں اور اگر انہیں یہ پتہ چل جائے، عشاء اور صبح کی نماز (باجماعت ادا کرنے) میں کیا فضیلت ہے، تو وہ اس میں ضرور شریک ہوں اگرچہ انہیں گھسٹ کر چل آنا پڑے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1657). تنبيه!! رقم (1657) = (1659) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وقد تقدم برقم (1659) في باب الأذان.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2150»