کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ امام لوگوں کو کھلی جگہ میں دیوار کے بغیر جماعت سے نماز پڑھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 2151
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ، أَنَّهُ قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ ، وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، وَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ میں اس وقت قریب البلوغ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا پھر میں اس سے اترا اور میں نے اس گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں آ کر شامل ہو گیا تو کسی نے میری (اس حرکت پر) اعتراض نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2151
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (709). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2148»