کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرے اور آخری دو کو مختصر کرے
حدیث نمبر: 2140
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ : قَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " أُطِيلُ الأُولَيَيْنِ ، وأَحْذِمُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، وَمَا آلُو مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ . أَبُو عَوْنٍ اسْمُهُ : مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اہل کوفہ نے ہر معاملے میں آپ کی شکایت کی ہے، یہاں تک کہ نماز کے بارے میں بھی کی ہے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات مختصر ادا کرتا ہوں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کرتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ ابوعون نامی راوی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔