کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کو ہلکی کر سکتا ہے اگر اسے معلوم ہو کہ اس کے پیچھے کوئی ایسا شخص ہے جسے اپنے کام کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے
حدیث نمبر: 2139
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا ، فَأَسْمَعَ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَأُخَفِّفَ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو بعض اوقات میرا ارادہ ہوتا ہے، میں طویل نماز ادا کروں گا لیکن پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں، تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے، اس کی وجہ سے اس کی والدہ کو کتنی پریشانی ہوتی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2139
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (755): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرطهما، سعيد: هو ابن أبي عروبة، وهو من أثبت الناس في قتادة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2136»