کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے اسے بیمار لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے تخفیف کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 2136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ ، وَالسَّقِيمَ ، وَذَا الْحَاجَةِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، تو اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیئے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بیمار اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2136
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (759 - 760)، «الإرواء» (2/ 290 / 512): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2133»
حدیث نمبر: 2137
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلانٌ . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَيْتُهُ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ ، وَالْكَبِيرَ ، وَذَا الْحَاجَةِ " .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں صبح کی نماز میں اس لیے شریک نہیں ہوتا، کیونکہ فلاں صاحب ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے (راوی کہتے ہیں) وعظ کرتے ہوئے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ (دوسروں کو) متنفر کرتے ہیں تم میں سے جو بھی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیئے کیونکہ لوگوں میں کمزور عمر رسیدہ اور بوسیدہ اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2137
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (759): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2134»