کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر لوگ قراءت میں برابر ہوں تو اسے امامت کرنی چاہیے جو سنت کا زیادہ عالم ہو
حدیث نمبر: 2127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلا يُؤَمَّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلا يُجْلَسَ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ " .
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سے اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ سنت کے علم کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو، کسی شخص کی سربراہی کی جگہ پر امامت نہ کی جائے اور اس کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھا جائے جب تک وہ شخص اس کی اجازت نہیں دیتا ۔“
حدیث نمبر: 2128
أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ الْمُعَدِّلُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَقَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " . قَالَ : وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا " ، أَرَادَ بِهِ أَحَدَهُمَا لا كِلَيْهِمَا .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میرا ایک دوست بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم دونوں نماز ادا کرو تو اذان دو اور اقامت کہو تم دونوں میں سے جو بڑی عمر کا ہو، وہ امامت کرے۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں ہم عمر تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” کہ تم دونوں اذان دینا اور تم دونوں اقامت کرنا “ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دنوں میں سے کوئی شخص ایسا کرے ایسا نہیں کہ وہ دونوں ایسا کریں۔