کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ کی صحت کو ثابت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2123
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَبُو عَوْفٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الظُّهْرِ وَهُوَ جَالِسٌ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا ، قَالَ : فَنَظَرَنَا قِيَامًا ، فَقَالَ : " اجْلِسُوا " ، أَوْمَأَ بِذَلِكَ إِلَيْهِمْ ، قَالَ : فَجَلَسْنَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ : " كِدْتُمْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ بِعُظَمَائِهِمِ ، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ ، فَإِنْ صَلُّوا جُلُوسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَإِنْ صَلُّوا قِيَامًا فَصَلُّوا قِيَامًا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں تکبیر کہی تاکہ ہم تک آواز آئے۔ راوی کہتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑا ہوا دیکھا تو فرمایا تم لوگ بیٹھ جاؤ۔ آپ نے لوگوں کی طرف اس کا اشارہ کیا (کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ) راوی کہتے ہیں: ہم بیٹھ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم ایسا طرز عمل اختیار کرنے لگے تھے جو اہل فارس اور اہل روم اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں تم لوگ اپنے آئمہ کی پیروی کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں، تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2123
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط الحسن بن سهل الجعفري: روى عنه الحسن بن سفيان، وأبو زرعة وغيرهما، وذكره ابن أبي حاتم 3/ 17 فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وأورده المؤلف في «الثقات» 8/ 177، ونسبه الجعفي، ويغلب على الظن أنه تحريف من النساخ، وباقي رجال الصحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2120»