کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - عائشہ رضی اللہ عنہا کی خبر کے ایک اور طریق کا ذکر جو حدیث کے بعض اصحاب کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ سابقہ حکم کو منسوخ کرتا ہے
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " . قُلْنَا : لا . قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . قَالَ عَاصِمٌ : وَالأَسِيفُ الرَّقِيقُ الرَّحِيمُ ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ " . قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ أَرُدُّ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً مِنْ نَفْسِهِ ، فَخَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ ، إِنِّي لأَنْظُرُ إِلَى نَعْلَيْهِ تَخُطَّانِ فِي الْحَصَا وَأَنْظُرُ إِلَى بُطُونِ قَدَمَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ " . فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی جب آپ کو ہوش آیا، تو آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں آپ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو، وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ عاصم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ ” اسیف “ سے مراد نرم دل اور مہربان ہونا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو، لوگوں کو نماز پڑھا دے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہی اور ہر مرتبہ میں نے بھی وہی جواب دیا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ بریرہ اور نوبہ (نامی کنیزوں) کے درمیان (یعنی ان کے ساتھ ٹیک لگا کر چلتے ہوئے) تشریف لے گئے یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ آپ کے نعلین شریفین کنکریوں پر لکیر بنا رہے تھے اور میں آپ کے پاؤں کے تلوے کو دیکھ رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا، اپنی جگہ پر رہو اور ان دونوں نے آپ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم بیٹھ کر نماز ادا کرتے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے، اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔