کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ خبر سے ظاہری طور پر متعارض ہے
حدیث نمبر: 2117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ خَلْفَهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَالَفَ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ زَائِدَةَ بْنَ قُدَامَةَ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، فَجَعَلَ شُعْبَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَأْمُومًا حَيْثُ صَلَّى قَاعِدًا وَالْقَوْمُ قِيَامٌ ، وَجَعَلَ زَائِدَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمَامًا حَيْثُ صَلَّى قَاعِدًا وَالْقَوْمُ قِيَامٌ ، وَهُمَا مُتْقِنَانِ حَافِظَانِ ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ تُجْعَلُ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَضَادَّتَا فِي الظَّاهِرِ فِي فِعْلٍ وَاحِدٍ نَاسِخًا لأَمْرٍ مُطْلَقٍ مُتَقَدِّمٍ ، فَمَنْ جَعَلَ أَحَدَ الْخَبَرَيْنِ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرَكَ الآخَرَ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ يَثْبُتُ لَهُ عَلَى صِحَّتِهِ سَوَّغَ لِخَصْمِهِ أَخْذَ مَا تَرَكَ مِنَ الْخَبَرَيْنِ وَتَرْكَ مَا أَخَذَ مِنْهُمَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شعبہ بن حجاج نے اس روایت کا متن نقل کرنے میں زائدہ بن قدامہ کی مخالفت کی ہے انہوں نے اسے موسیٰ بن ابوعائشہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ تو شعبہ نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ تو آپ مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ جبکہ زائدہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے تو آپ امام کے طور پر نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ یہ دونوں راوی متقی ہیں اور دونوں حافظ ہیں تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی نقل کردہ روایت کو قبول کر لیا جائے حالانکہ یہ دونوں روایات ایک ہی فعل کے بارے میں منقول ہیں۔ اور بظاہر ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ اور یہ پہلے موجود مطلق حکم کو ناسخ قرار دینے والی روایت بنتی ہیں تو جو شخص ان دونوں روایات میں سے کسی ایک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے موجود حکم کی ناسخ قرار دیتا ہے اور دوسری روایت کو ترک کر دیتا ہے اور کسی دلیل کے بغیر ایسا کرتا ہے جو دلیل اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو۔ تو وہ اپنے مدمقابل کو اس طرف جانے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اس دوسری روایت کو قبول کر لے جس روایت کو اس نے ان دونوں روایات میں سے ترک کیا ہے۔ اور اس کا مدمقابل اس روایت کو ترک کر دے جسے اس نے قبول کیا ہے۔ احادیث میں اس نوعیت کی ایک مثال سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ جبکہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ اس وقت آپ دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔ تو یہ دونوں روایات ایک ہی فعل کے بارے میں ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ حالانکہ ہمارے نزدیک بھی ان دونوں کے درمیان کوئی بھی تضاد نہیں ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں منقول ان دونوں روایات کو ایک دوسرے کے متارج قرار دیا ہے۔ اور ان لوگوں نے اس روایت کے مطابق فتوی دیا ہے جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” احرام والا شخص نہ تو نکاح کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا نکاح پڑھوا سکتا ہے۔ “ محدثین نے اس روایت کو قبول کر لیا کیونکہ یہ ان دونوں روایات میں سے ایک روایت کے موافق ہے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے بارے میں نقل کی گئی ہیں اور محدثین نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت کو ترک کر دیا۔ جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ آپ اس وقت حالت احرام میں تھے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے۔ اس کے لیے یہ بات ضروری ہو گی کہ وہ یہ کہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے کے بارے میں اس کی علت کے حوالے سے یہ دونوں روایات ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ تو اب یہ بات ضروری ہو گی۔ کہ ہم اس روایت کی طرف رجوع کریں۔ جس میں مقتدیوں کو اس وقت بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ تو اب ہم اس روایت کے مطابق فتوی دے دیں گے۔ کیونکہ یہ ان دو روایات میں سے ایک روایت کے موافق ہے۔ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نقل کی گئی ہیں۔ جس میں اس کی علت کا تذکرہ ہے اور ہم اس روایت کو ترک کر دیں جو ان دونوں میں سے منفرد ہیں۔ جس طرح سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بارے میں روایت کے بارے میں کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے اور نہ کوئی روایت ان میں سے ناسخ ہے۔ اور نہ ہی منسوخ ہے۔ بلکہ ان میں سے ایک روایت مختصر ہے۔ اور دوسری تفصیلی ہے۔ ایک مجمل ہے۔ اور دوسری وضاحتی ہے۔ جب اس کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا۔ تو ان دونوں کے درمیان موجود تضاد ختم ہو جائے گا۔ اور ان میں سے ہر ایک روایت کو اس کے مخصوص موقع و محل پر محمول کر لیا جائے گا۔ جیسا کہ ہم عنقریب آگے چل کر یہ بات بیان کریں گے۔ اگر اللہ نے چاہا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2117
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2114»