کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بعض ائمہ کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو منسوخ کرتا ہے کہ مأموم اپنے امام کے بیٹھ کر نماز پڑھنے پر بیٹھ کر پڑھیں
حدیث نمبر: 2116
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَلا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْتُ : لا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . قَالَتْ : فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنْوِيَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْتُ : لا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلا رَقِيقًا : يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ . قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ، قَالَتْ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ لِصَلاةِ الظُّهْرِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لا يَتَأَخَّرَ ، وَقَالَ لَهُمَا : " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ " . فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : هَاتِ . فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا .
عبیدالله بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے گزارش کی، آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت خراب ہو گئی۔ آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے کسی ٹب میں پانی رکھو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہے ہم نے ایسا ہی کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی جب آپ کو ہوش آیا، تو آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی۔ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا، تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، پیغام رساں شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اللہ کے رسول نے آپ کو حکم دیا ہے، آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ایک نرم دل آدمی تھے۔ انہوں نے فرمایا: اے عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دنوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے ظہر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ آپ پیچھے نہ ہٹی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا مجھے اس کے پہلو میں بٹھا دو۔ ان دونوں حضرات نے آپ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ادا کرنے لگے وہ کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: پیش کرو۔ میں نے وہ حدیث ان کے سامنے بیان کی تو انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2116
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، زائدة: هو ابن قدامة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2113»