کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس متأول کی اس مطلق حکم کی تأویل کو رد کرتا ہے
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ ، فَوَقَعَ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَشْرَبَةٍ لِعَائِشَةَ جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَلا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَصْنَعُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي قَوْلِ جَابِرٍ : فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، بَيَانٌ وَاضِحٌ عَلَى دَحْضِ قَوْلِ هَذَا الْمُتَأَوِّلِ إِذِ الْقَوْمُ لَمْ يَتَشَهَّدُوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ قِيَامٌ ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي الصَّلاةِ الأُخْرَى : فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا ، أَرَادَ بِهِ الْقِيَامَ الَّذِي هُوَ فَرْضُ الصَّلاةِ لا التَّشَهُّدَ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے۔ آپ کھجور کے تنے پر گرے تھے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں پر چوٹ آئی ہم آپ کی عیادت کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بالا خانے میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی شروع کی ہم کھڑے ہوئے تھے، پھر جب ہم دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی کی ہم اس وقت بھی کھڑے ہوئے، تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ جب آپ نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ وہ بیٹھا ہوا ہو، تو تم لوگ کھڑے نہ ہو، جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں کے لیے کرتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے آپ کی نماز کی پیروی کی اور ہم اس وقت کھڑے ہوئے تھے۔ اس بات کا واضح بیان موجود ہے۔ جو تاویل کرنے والے شخص کے موقف کو پرے کر دیتا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قیام کی حالت میں تشہد نہیں پڑھا تھا۔ اس طرح دوسری نماز کے بارے میں راوی کا یہ کہنا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی اور ہم کھڑے ہوئے تھے۔ تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ اس کے ذریعے ان کی مراد وہ قیام ہے جو نماز میں فرض ہے اس سے مراد تشہد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2114
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: وهو مكرر (2109). تنبيه!! رقم (2109) = (2112) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2111»