کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم واجب ہے، نہ کہ مستحب
حدیث نمبر: 2107
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمَأْمُومِينَ عَنِ الاخْتِلافِ عَلَى إِمَامِهِمْ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا ، وَهُوَ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَزْجُرُ عَنِ الشَّيْءِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، ثُمَّ يَسْتَثْنِي بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَزْجُورِ عَنْهُ ، فَيُبِيحُهُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ كَمَا نَهَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ بِلَفْظٍ مُطْلَقٍ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى بَعْضَهَا ، وَهُوَ الْعَرِيَّةُ فَأَبَاحَهَا بِشَرْطٍ مَعْلُومٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَكَذَلِكَ يَأْمُرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَمْرَ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، ثُمَّ يَسْتَثْنِي بَعْضَ ذَلِكَ الْعُمُومِ ، فَيَحْظُرُهُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ كَمَا أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَأْمُومِينَ ، وَالأَئِمَّةَ جَمِيعًا أَنْ يُصَلُّوا قِيَامًا إِلا عِنْدَ الْعَجْزِ عَنْهُ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى بَعْضَ هَذَا الْعُمُومِ ، وَهُوَ إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا فَزَجَرَهُمْ ، عَنِ اسْتِعْمَالِهِ مَسْتَثْنًى مِنْ جُمْلَةِ الأَمْرِ الْمُطْلَقِ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ مِنَ السُّنَنِ سَنَذْكُرُهَا فِي مَوَاضِعِهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے تم اس سے اختلاف نہ کرو جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھے تو تم لوگ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» پڑھو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ان لوگوں کو منع کیا ہے جو اپنے امام سے مختلف طور پر نماز ادا کرتے ہیں۔ اس وقت جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ یہ وہ قسم ہے جس کا ذکر میں نے اپنی کتاب میں دوسری جگہوں پر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات لفظ کے عموم کے ذریعے کسی چیز سے منع کرتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ حصے کو مستثنی کر لیتے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے۔ اور کسی متعین علت کی وجہ سے اس حصے کو مباح قرار دیتے ہیں۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق لفظ کے ذریعے بیع مزابنہ سے منع کیا ہے۔ لیکن پھر آپ نے اس کے کچھ حصے کا استثنیٰ کر دیا۔ اور وہ حصہ عریہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین علت کی وجہ سے متعین شرط کے ہمراہ اسے مباح قرار دیا ہے۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لفظ کے عموم کے ذریعے کوئی حکم دیتے ہیں۔ پھر اس عموم کے کچھ حصے کا استثنیٰ کر لیتے ہیں۔ اور کسی متعین علت کی وجہ سے اسے ممنوع قرار دے دیتے ہیں۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں اور آئمہ سب کو حکم دیا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں۔ البتہ اگر کوئی شخص قیام سے عاجز ہو، تو اس کا حکم مختلف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عموم کے بعض حصے کا استثنیٰ کیا اور وہ صورت یہ ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو آپ نے لوگوں کو اس سے منع کر دیا کہ (وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کریں) تو یہ حکم اس عمومی مطلق حکم سے مستثنی ہو گیا۔ اس کی مثالیں احادیث میں بہت ساری ہیں۔ جن کو ہم ان کے مخصوص مقام پر اس کتاب میں ذکر کریں گے اگراللہ تعالیٰ نے یہ چاہا۔