کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ لوگوں نے اس نماز میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ان کی اتباع کرتے ہوئے
حدیث نمبر: 2103
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ ، يَعْنِي فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، فَصَلَّى صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
سیدنا انس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے، تو اس سے گر گئے۔ آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر ادا کیں۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے) اٹھے تو تم بھی اٹھو جب وہ «سمع اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2103
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2100»