کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان -
حدیث نمبر: 2102
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، فَحَضَرَتْ صَلاةٌ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے۔ آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ نماز کا وقت ہوا، تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے) اٹھے تو تم بھی اٹھو اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمدہ» پڑھے تم «ربنا ولك الحمد» پڑھو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2102
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 118 / 394)، «صحيح أبي داود» (614): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2099»