کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر تین افراد دیہات یا شہر میں ہوں اور وہ نماز جماعت سے نہ پڑھیں تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے
حدیث نمبر: 2101
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : سَأَلَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ ؟ قُلْتُ : فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصٍ . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ ثَلاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلا بَدْوٍ لا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاةُ إِلا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ " . قَالَ السَّائِبُ : إِنَّمَا يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ : جَمَاعَةَ الصَّلاةِ .
معدان بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا: حمص کے قریب ایک گاؤں میں، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” جس بھی گاؤں، یا دیہات میں تین آدمی موجود ہوں اور وہاں نماز قائم نہ کی جاتی ہو، تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے ۔“ تم پر جماعت کو اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ علیحدہ ہونے والی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔ سائب نامی راوی کہتے ہیں: یہاں جماعت سے مراد باجماعت نماز ہے۔