کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس چیز کی کیفیت کا ذکر جس کی وجہ سے ہمارے بیان کردہ افراد کے بارے میں بدگمانی کی جاتی تھی
حدیث نمبر: 2100
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلاةِ إِلا مُنَافِقٌ ، قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ ، أَوْ مَرِيضٌ ، وَإِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمُرُّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلاةَ . وَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى ، وَمِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، نماز (باجماعت) سے پیچھے صرف وہی شخص رہتا تھا جو منافق ہوتا تھا اور اس کا نفاق معلوم ہوتا تھا، یا پھر بیمار شریک نہیں ہوتا تھا۔ اگر کسی بیمار کو دو آدمیوں کے درمیان چل کر آنا ممکن ہوتا تو وہ نماز (با جماعت) میں شریک ہوا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں ایک اس مسجد میں نماز ادا کرنا ہے جہاں اذان دی جاتی ہے۔